Breaking News

توشہ خانہ کیس : اگر وزیراعظم شہباز شریف میرے 10 سوالوں کا جواب دے دیں تو ہم سمجھیں گے عمران خان بے ایمان ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)توشہ خانہ کے قیمتی تحائف جس بے رحمی سے ہتھیائے جاتے ہیں وہ ایک سنجیدہ اور مستقل موضوع ہے۔اب چونکہ جناب وزیر اعظم نے بھی اس پر بات کی ہے تو مناسب ہو گا ان کی خد مت میں چند سوالات رکھے جائیں اور ان سے رہنمائی کی درخواست کی جائے۔ 1۔ وزیر اعظم سے پہلا سوال یہ ہے۔

کہ کیا توشہ خانہ کی قانونی لوٹ مار سے صرف عمران خان نے فائدہ اٹھایا ہے یا باقی حکمران بھی اس مال غنیمت سے فیض یاب ہو چکے ہیں؟کیا زندگی میں اس سے پہلے بھی کبھی جناب وزیر اعظم نے توشہ خانہ کو لنگر خانہ بنانے پر اعتراض کیا تھا یا اب عمران خان تک پہنچی ہے تو انہیں احساس ہوا ہے کہ یہ تو بہت غلط ہو گیا ہے؟ ان کا اصل مسئلہ توشہ خانے کی امانت میں خیانت ہے یا ان کا مسئلہ صرف عمران خان ہے؟ 2۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ عمران خان نے توشہ خانے سے سستے داموں جوچیزیں خریدی ہیں وہ کسی قانون کے تحت خریدی ہیں یا ایسے ہی اٹھا کر چلے گئے ؟قانون کے تحت لی ہیںتوکیا یہ قانون پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عمران خان نے متعارف کرایا ہے یا یہ قانون اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومتوں میں موجود ہوتا تھا۔ جناب وزیر اعظم کی اس قانون کے بارے میں کیا رائے ہے؟ یہ قانون اگر درست ہے تو عمران پر کیسا اعتراض؟اور قانون اگر غلط ہے تو مسلم لیگ کے ادوار میں اسے ختم کیوں نہ کیا گیا؟ 3۔وزیر اعظم سے تیسرا سوال یہ ہے کہ توشہ خانے سے سستے داموں چیزیں ہتھیانا جرم ہے یا توشہ خانے سے عمران خان کا سستے داموں چیزیں ہتھیانا جرم ہے؟

اگر وزیر اعظم عمران کی مخالفت کی بجائے ایک اصول کی بنیاد پر کھڑے ہیں تو کیا وہ سراج الحق صاحب کے اس مطالبے کو تسلیم کریں گے کہ گذشتہ تیس سالوں میں نواز شریف سے عمران خان تک اور پرویز مشرف سے عارف علوی تک جس نے بھی سستے داموں چیزیں لی ہیں ، ان کی ایک فہرست عوام کے سامنے ضرور رکھ دی جائے؟ 4۔ سب کا تقابل کر نے کی اگر وہ ضرورت نہیں سمجھتے تو کم از کم اتنا تو وہ کر سکتے ہیں کہ نواز شریف اور عمران خان نے توشہ خانے سے جو جو کچھ لیا ہے اور جتنی قیمت دے کر لیا ہے اس کی تفصیلا ت قوم کے سامنے رکھ دی جائیں تا کہ قوم جان سکے کہ نواز شریف صاحب اور عمران خان صاحب میں سے کس نے توشہ خانے کو لنگر خانہ سمجھتے ہوئے زیادہ فیض حاصل کیا۔تو کیاجناب شہباز شریف یہ فہرست جاری فرمائیں گے تا کہ قوم پر حقیقت واضح ہو سکے؟ 5۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ چلیں ماضی کو چھوڑ بھی دیں تو کیا اب وہ صرف عمران خان کی مذمت تک محدود رہیں گے یا وہ ایک حکم نامہ جاری کر دیں گے کہ آج کے بعد توشہ خانے کو لنگر خانہ نہ سمجھا جائے اور آج کے بعد توشہ خانے کی چیزیں کوئی بھی اس طرح سستے داموں نہیں ہتھیائے گا؟

موجود ضابطے کی دفعہ 11 کے تحت گاڑیاں اور نوادرات کا تحفہ اگر کسی کو ملا ہو تو وہ توشہ خانے سے یہ تحفہ نہیں خرید سکتا۔ سوال یہ ہے کہ شہباز شریف اس دفعہ گیارہ کا اطلاق تمام تحفوں پر کر سکتے ہیں؟6۔ کیا شہباز شریف صاحب ایوان میں ایسا قانون متعارف کرانا پسند کریں گےکہ نواز شریف اور عمران خان دونوں نے آج تک توشہ خانہ سے جو کچھ لیا ہے وہ واپس کیا جائے یا پھرا س کی اصل قیمت ادا کی جائے۔ قانون سازی میں اگر اطلاق بہ ماضی کی گنجائش نہیں ہے تو ایک قرارداد ہی پیش کر دیجیے ، کیا ایسا ہو سکے گا؟ 7۔ جناب شہباز شریف سے ساتواں سوال یہ ہے کہ کیا یہ درست نہیں کہ توشہ خانے کی لوٹ مار کے لیے سرے سے کو ئی قانون ہے ہی نہیں جو پارلیمان نے بنایا ہو۔بس کیبنٹ ڈویژن کے ایک مراسلے سے کام چلایا جا رہا ہے؟ کیا اس مرتبہ جناب وزیر اعظم اس معاملے کو پارلیمان کے سامنے لائیںگے؟کیا وہ یہ سوال اٹھائیں گے کہ پارلیمان سے قانون سازی کروائے بغیر کیبنٹ ڈویژن نے اس مال غنیمت سے لطف اندوز ہونے کے اصول خود ہی کیسے طے کر لیے؟ 8۔کیا یہ درست نہیں کہ عمران خان سے پہلے قریب پندرہ فیصد کی ادائیگی سے توشہ خانے سے تحفہ اٹھایا جا سکتا تھا۔

دسمبر 2018میں عمران خان کے دور میں کیبنٹ ڈویژن نے نیا مراسلہ بھیج کر یہ مالیت پچاس فیصد تک کر دی تھی؟یہ سوال تو ہم نہیں پوچھتے کہ ایسا نیک کام میاں نواز شریف صاحب کے دور میں کیوں نہ ہوسکا لیکن یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ کیا شہباز شریف صاحب اس پچیس فیصد کو بڑھا کر اسی‘ نوے یا سو فیصد کا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ 9۔موجودہ ضابطہ میں بہت سارے سقم ہیں۔ ضابطہ یہ ہے کہ کسی بھی تحفے کی دو قیمتیں لگیں گی۔ ایک قیمت ایف بی آر کے ماہرین لگائیں گے اور دوسری قیمت پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین لگائیں گے۔ اور اگر قیمت میں پچیس فیصد تک فرق ہو تو زیادہ قیمت پر چیزیں بیچی جائیں گی۔ بظاہر یہ شفافیت کے لیے کیا گیا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پرائیویٹ ماہرین کا تعلق بھی کیبنٹ ڈویژن کے پینل پر موجود ماہرین کرام سے ہو گا۔پینل پر موجووجو ماہرین اس کام کا حکومت سے معاوضہ بھی لیتے ہیں کیا وہ حکومت کی مرضی کے بغیر قیمت کا تعین کر سکتے ہیں؟کیا کوئی اصول ہے کہ ان پرائیویٹ ماہرین کا تعین شفافیت سے ہو اور وہ بھی چیزوں کی قیمت کے تعین میں شفافیت دکھا سکیں؟ اور کچھ نہیں تو کیا جناب وزیر اعظم اس بندر بانٹ کے اصولوں کو شفاف بنا سکتے ہیں؟

۔دسویں سوال کا تعلق کیبنٹ ڈویژن کے جاری کردہ ضابطے کی شق نمبر دس سے ہے۔ جو تحائف بچ جاتے ہوں اور انہیں کہیں ڈسپلے بھی نہ کیا جا نا ہو تو ان کو سال میں دو مرتبہ فروخت کے لیے پیش کیا جاتاہے ۔ ان کی ایک فہرست بنائی جاتی ہے ا ور یہ فہرست صرف بیوروکریسی اور فوج کے افسران کو بھیجی جاتی ہے اور صرف وہی اس کی خریداری کے مجاز ہیں۔چلیں باقی ساری باتیں بھی چھوڑ دیجیے ، کیا وزیر اعظم صرف اتنا سا کام کر سکتے ہیں کہ کیبنٹ ڈویژن کے اس ضابطہ نمبر دس کو ، جو آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے ، منسوخ کرنے کا حکم جاری فرما دیں اور کہیں کہ اگر ان تحائف کو فروخت کرنا ہی ہے تو اس عمل میں حصہ لینے کا حق صرف دو طبقات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ساری قوم کو اس میں شریک ہونے کا حق دیا جائے۔ فہرستیں صرف ان افسران سے شیئر نہ کی جائیں بلکہ اخبارات اور سرکاری ویب سائٹ پر ان کی تفصیل جاری جائے؟ اگر مقصد صرف عمران خان کی مذمت ہے تو پھر ٹھیک ہے ، لگے رہیے کہ عمران اس کے حق دار بھی ہیں۔ لیکن اگر مقصد اصلاح احوال ہے تو پھر یہ دس سوال جناب وزیر اعظم کی توجہ چاہتے ہیں۔ بشکریہ نامور کالم نگار آصف محمود۔

About newsbeads

Check Also

حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے قابل تھا یا نہیں ؟ پنجاب میں حمزہ اینڈ کمپنی چل سکے گی یا نہیں ؟ سہیل وڑائچ نے بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حمزہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *