Breaking News

قبریں تو زمین پر ہوتی ہیں لیکن یہ قبر پانی کے بیچ و بیج کیوں ہے۔۔۔ محبت کی ایک انوکھی داستان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نوری جام تماچی جن کو مائی نوری بھی کہا جاتا ہے آخر کون تھیں؟ نام کی طرح یہ کردار بھی انتہائی رومانوی ہے جو سندھی ثقافت سے جڑا ہوا ہے اور سندھ کے صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی ؒ نے نوری کو کیا خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں۔ وہ ملاحوں میں پیدا تو ہوئی تھی۔

مگر قسمت میں تھی اوصاف حوری۔۔۔۔۔ سردار نے پہچان کر ہی اسے بخشا تھا اعزاز حضوری!! صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے پاس واقع کینجھر جھیل کا شمار پاکستان کی چند خوبصورت اور سحر انگیز جھیلوں میں ہوتا ہے یہاں سینکڑوں سیاح آتے ہیں اس جھیل کی ایک خاصیت ہے جو اسے دوسری جھیلوں سے جدا کرتی ہے۔ وہ ہے نوری جام تماچی کا مزار جو کینجھر جھیل کے بیچ و بیچ واقع ہے یہ مزار اس جھیل کے بیچ میں کیسے بنا؟ ایک بہت ہی دلکش و دلفریب داستان اس کے پیچھے ہے جو جھیل پر آنے والے سیاحوں کو کھینچ کر مزار تک لاتی ہے کینجھر جھیل کراچی سے تقریباً 130 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سے کشتی کرائے پر لے کر مائی نوری کے مزار تک جایا جا سکتا ہے۔ یہ مزار اس جھیل میں تقریباً 4 کلو میٹر آگے جا کر ہے۔ یہ ایک گول شکل کی عمارت ہے جس کے ساتھ اوپر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی منسلک ہیں جو زیادہ تر پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ اس جھیل کے گرد مچھیروں کی بستیوں کی باقیات بھی نظر آتی ہے۔ ایوب خان کے دور میں جھیل کے پانی کو بڑھایا گیا لیکن عقیدت کے باعث اس مزار کو نہیں چھیڑا گیا۔عرصہ دراز پہلے اس مقام پر مچھیروں کی بستیاں تھی۔

نوری ایک مچھیرے کی بیٹی تھی خوبصورت آنکھوں اور دلکش نقوش کے ساتھ وہ کسی حور سے کم نہ تھی۔اسی لئے ماں باپ نے اس کا نام نوری رکھا۔ اسے جھیل کے پاس بیٹھنا اچھا لگتا تھا اسی لئے وہ اکثر اپنے باپ کے ساتھ جھیل پر چلی جاتی۔ ایک دن وہاں کا بادشاہ جام تماچی اس بستی سے گزرا اس کی نظر نوری پر پڑ گئی جو جھیل کے کنارے بیٹھی تھی بس وہ اسی لمحے اس کا دیوانہ ہو گیا۔ محل واپس جا کر اس نے ذات پات کی پرواہ کئے بغیر نوری کے ماں باپ سے اس کا ہاتھ مانگا ایک مچھیرے کے لئے اس سے بڑی خوش قسمتی کیا ہو سکتی تھی کہ ایک بادشاہ مچھیرے کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔ انھوں نے بادشاہ کا پیغام فوراً قبول کر لیا ۔ اس طرح نوری بادشاہ کی ساتویں بیوی بن کر محل آگئی۔نوری اپنے معصوم چہرے کی مانند انتہائی سادہ مزاج تھی۔ بادشاہ جام تماچی کو نوری سے الگ طرح کی محبت تھی یہی وجہ تھی کہ اسکی دوسری بیویوں کو بادشاہ نے حکم دیا کہ نوری کو مہارانی کے نام سے پکارا جائے۔ یہ بات ان چھ بیویوں کو گوارا نہیں تھی انھوں نے بادشاہ کو نوری سے بد زن کرنے کا پلان بنایا۔ انھوں نے بادشاہ سے کہا ۔

کہ نوری ایک لکڑی کے صندوق میں ہیرے جواہرات بھر کر اپنے بھائی کو دیتی ہے۔نوری کا بھائی جب بھی اس سے ملنے آتا تھا تو ایک لکڑی کا صندوق ساتھ لاتا تھا۔اور واپسی میں بھی صندوق اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ جب نوری کا بھائی آیا تو عادت کے مطابق لکڑی کا صندوق ساتھ لایا۔ اس نے مہارانی کے پاس تھوڑا وقت گزارا جب جانے کا وقت آیا تو نوری نے وہ صندوق اس کو واپس لے جانے کیلئے دیا ۔ بھائی جیسے ہی محل سے نکلنے لگا تو بادشاہ کے سپاہیوں نے اسے صندوق سمیت پکڑ لیا اور بادشاہ کے پاس لے گئے بادشا ہ نے نوری کو بھی طلب کر لیا۔نوری اپنے بھائی کو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ صندوق کھولا گیا تو بادشاہ یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اس صندوق میں تو بس مچھلی کے کانٹے ہیں بادشاہ نے نوری سے پوچھا یہ کیا ہے تو اس نے انتہائی شرمندگی کے ساتھ بتایا کہ اس کو اپنے گھر کے پکے کھانے کی عادت ہے محل کے پکے کھانے اس سے کھائے نہیں جاتے وہ بادشاہ کی ناراضگی سے ڈرتی تھی اس لئے اس کا بھائی اپنے گھرسے پکی مچھلی لکڑی کے صندوق میں لاتا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ بادشاہ بہت شرمندہ ہوا اور اس دن کے بعد سے اس کے لئے نوری کی وقعت اور بڑھ گئی۔

اب کسی کی ہمت نہیں تھی کہ نوری کے خلاف کوئی بات کر سکے۔ انھوں نے کافی وقت ساتھ گزارا ۔ نوری کی وفات کے بعد بادشاہ جام تماچی نے اس کا شاندار مزار جھیل کے کنارے اسی جگہ بنوایا ۔جہاں بادشاہ نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا اس وقت یہاں پانی نہیں تھا لیکن بعد میں پانی میں اضافے کے سبب مزار بھی پانی کے اندر شامل ہوگیا۔ یہ مزار ان کی سچی لازوال محبت کی نشانی ہے جو پانی میں ڈوبا ہوا ہونے کے باوجود آج تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ تاج محل تو زمین پر محبت کی نشانی ہے لیکن نوری جام تماچی کا مزار پانی میں ڈوبا ہوا ایک انوکھی محبت کی داستان ہے جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔ بادشاہ جام تماچی کی قبر مکلی کے قبرستان میں ہے۔ ہر زمانے کی اپنی محبت کی داستانیں ہیں جو یقیناً دلچسپ اور عجیب ہیں۔ ان محبت کرنے والوں نے اپنی محبت کو ا مر کرنے کے لئے نشانیاں چھوڑی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بہت مضبوط احساس ہے جو ان محبت کرنے والوں کو عام لوگوں سے جدا کرتا ہے یہ عام انسان کے بس کی بات نہیں۔

About newsbeads

Check Also

دو پاکستانیوں اور ایک عرب شہری کا واقعہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دوستو،ہم نے اکثر نوٹ کیا ہے ، جس کالم میں ہم اوٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *