’’جج صاحب! میرا مدعی کہاں ہے؟‘‘ عمران ریاض کے سوال کرتے ہی عدالت میں کیا صورتحال پیدا ہوئی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران ریاض خان ،گیدڑ اور چوہے کی طرح چھپ کر نہیں، مردوں کی طرح اسلام آباد آ رہا تھا جب پولیس نے گرفتار کیا۔میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کیس کا مکمل بیک گراؤنڈ بتا رہے ہیں۔

مجسٹریٹ راولپنڈی محمد پرویز خان،مجسٹریٹ اٹک یاسر تنویر اور مجسٹریٹ چکوال یاسر بلال کے بعد آج چوتھی عدالت میں آئی جی پنجاب اور پنجاب حکومت کی بدنیتی کے ثبوت پیش کردئیے گئے۔صدیق جان کے مطابق آج تیسرے روز میں عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ پانچویں جج کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جج صاحب ٹیلی فون کالز پر نہیں، ضمیر کے مطابق آزادانہ فیصلے کریں۔میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چوہے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں لیکن جو جج آزادانہ فیصلہ کرے گا، اس کی نوکری کہیں نہیں جائے گی،جج اوپر اللہ کو اور نیچے اپنے ضمیر کو دیکھے،اس موقع پر اینکر عمران ریاض نے سوال اٹھایا کہ جج صاحب ،میرا مدعی کہاں ہے؟عمران ریاض خان نے جج کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پہلے ہی مہنگا ہے،پولیس کی دس گاڑیاں میرے ساتھ ٹریول کرتی ہیں،سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے،میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت گزر جاتا ہے، آج نہیں تو کل، ریلیف تو لے ہی لوں گا کیونکہ کیسز بوگس ہیں لیکن رویے اور چہرے یاد رہتے ہیں،یاد رہے گا کہ کس جج نے آزادانہ فیصلے کیے،اس اثناء میں سپریم کورٹ بار کے سابق سیکریٹری آفتاب باجوہ کمرہ عدالت میں آکر برس پڑے اور کہا کہ جج صاحب تاریخ میں عدالتوں کے دروازے ایسے بند نہیں ہوئے جیسے آج بند ہیں۔

About newsbeads

Check Also

اہم ترین عہدے پر تعیناتی ! سپریم کمانڈر صدر پاکستان نے سمری پردستخط کر دیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اہم ترین عہدے پر تعیناتی ! سپریم کمانڈر صدر پاکستان نے سمری پر دستخط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *