ن لیگ کا ٹوپی ڈرامہ بے نقاب ۔۔۔!!! کیپٹن (ر)صفدرکو رینجرز نے نہیں بلکہ کس نے گرفتار کیا ؟ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر ہر کوئی حیران پریشان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکی گرفتاری کی ویڈیو سامنے آگئی ۔ویڈیو فوٹیج کے مطابق کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا آپریشن 46 منٹ جاری رہا، صبح 6 بج کر 8 منٹ پر ہوٹل میں پولیس کی 2 موبائلیں داخل ہوئیں۔فوٹیج کے مطابق 6 بجکر 46 منٹ پر پولیس ٹیم 15 ویں فلور پر مریم نواز کے کمرے کے باہر پہنچ گئی۔

اور مریم نواز کے کمرے کے باہر سیاہ لباس اور جوگرز پہنا شخص فون پرہدایات لیتا رہا جب کہ 6 بجکر 48 منٹ پر اہلکار دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے اور 6 بجکر 50 منٹ پر کیپٹن صفدر کو کمرے سے باہر نکال کر حراست میں لیا گیا۔ویڈیو فوٹیج کے مطابق لفٹ اور لابی میں سادہ لباس میں ایک شخص کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ویڈیو بناتا رہا۔معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے کہا ہے فوٹیج سے واضح ہوگیا ہے کیپٹن (ر)صفدر کوسندھ پولیس نے گرفتار کیا۔ فوٹیج میں نظر آرہا ہے کہ کسی نے کوئی زبردستی نہیں کی،نہ دروازہ توڑا۔ دوسری جانب حکومت کو سابق وزیراعظم نواز شریف کوقانونی طور پر واپس لانے کیلئے 7 سال لگیں گے، غداری کا مقدمہ اور وزیراعظم عمران خان کا منہ پرہاتھ پھیرکرنوازشریف کو دھمکی دینا، بات سابق وزیر اعظم کے حق میں گئی ہے، حکومت کی جانب سے برطانیہ سے نوازشریف کی واپسی کے تقریباً نامکنہے۔نجی ٹی وی پر سینئر تجزیہ کار اور اینکر شاہد کامران کے پروگرام میں بتایا گیا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا ، جوپاکستان میں آئی جی پولیس کے ساتھ پیش آیا، کہ وفاقی کے ایک ادارے نے آئی جی پولیس کو اٹھایا گیاان کویرغمال بناکر اسی گاری کیلئے دستخط لیے گئے جس گرفتاری کو آئی جی سندھ غیرقانونی سمجھتے تھے، یہ سب پاکستان میں ہوا ہے۔اس کے بعد اس واقعے پر وزیراعظم پاکستان جو کہ گورننس قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں، وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیا، نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ کو فون کیا، وزیراعظم مکمل طور پر خاموش ہیں۔بلکہ آخر میں اس معاملے پر بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول بھٹو کو فون کیا اور معاملے کا نوٹس لیا۔ اپوزیشن کی تحریک جو کہ کٹھ پتلی حکومت ختم کرنا چاہتی ہے۔

اس تحریک کے سرخیل سابق وزیر اعظم نوازشریف ہیں، لیکن ان کی تقریر دکھانے پر پابندی ہے۔فنانشنل ٹائمز کی خبر ہے کہ حکومت پاکستان نے اعلیٰ سطح پر برطانوی حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو واپس بھیجا جائے۔نوازشریف ویزٹ ویزہ پر مقیم ہیں، یہ ویزہ طویل المدتی ویزہ ہے، اس ویزہ میں توسیع کیلئے 6ماہ کے بعد پاکستان جاکر واپس آنا ضروری ہے لیکن کورونا کی وجہ سے ان کو توسیع مل گئی ہے اسی طرح ان کا علاج چل رہا ہے،نوازشریف نے میڈیکل رپورٹس جمع کروائی ہیں جس پر انہیں توسیع مل گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ متحدہ کے سربراہ بانی ایم کیوایم کا کیس قائد ن لیگ نوازشریف سے مختلف ہے، بانی ایم کیوایم کے خلاف عدالتی فیصلے دکھانے کے باجود برطانیہ سے واپس نہیں لایا گیا۔ حکومت اگر اپنی مکمل کوشش اور کیس کی پیروی کرتی ہے، نوازشریف کیخلاف دو اہم واقعات ہوئے ایک غداری کا مقدمہ اور دوسری نوازشریف کیخلاف وزیراعظم عمران خان کی کنونشن سنٹڑ میں تقریر تھی ، جس عمران خان نے منہ پر ہاتھ پھیر کرواضح کہا کہ آپ واپس آئیں میں آپ کو جیل میں ڈالوں گا۔جس کے باعث نوازشریف کو واپس لے جانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اگر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوبھی جاتا ہے تب نوازشریف کو قانونی طور پر واپس لے جانے کیلئے 7سال لگیں گے۔ بتایا گیا کہ نوازشریف سے لندن میں کسی غیرملکی سفیر نے کبھی ملاقات نہیں کی، اس کے شواہد بھی نہیں ہیں۔

About newsbeads

Check Also

بی بی سی نے دنیا بھر کی 100 بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی،2پاکستانی خواتین بھی شامل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) معروف برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈ کاسٹنگ بی بی سی نے ہر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *