پرویز مشرف بیان دینا چاہتے تھے مگر کس نے انہیں روکے رکھا ؟ پول کھول دینے والی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف جو ان دنوں دبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں وہاں پر ہی اُنہیں خصوصی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے بارے بتایا گیا تھا جس پر اُنہوں نے عدالت کے اس فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کیا تھا ۔

دبئی کے ہسپتال میں زیر علاج سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کومشکوک کہتاہوں،ایسے فیصلے کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ملزم اورنہ ہی اس کے وکیل کودفاع کاحق دیاگیا ۔ انہوں نے ہسپتال سے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کیس میں صرف ایک فرد کو ٹارگٹ کیا گیا، میں پاکستانی عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن خصوصی عدالت کا ایسا فیصلہ پہلی بار سنا ہے ۔ میں نے کہا تھا کہ سپیشل کمیشن کو بیان دینے کیلئے تیار ہوں لیکن میری اس بات کو نظر انداز کردیا گیا اور میرا بیان نہیں لیا گیا۔ انہوں نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا۔ میرے دور میں فائدہ اٹھانے والے جج میرے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتے ہیں؟سابق صدر کا کہنا تھا کہ میری خدمات کو یاد رکھنے پر فوج اور عوام کا شکر گزار ہوں۔ میں اس تمغے کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر جاؤں گا ۔ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کروں گا۔ عدالتوں پر اعتماد اور امید ہے کہ قانون کی بالادستی کو مدنظر رکھیں گے ۔ دریں اثنا ایم کیو ایم پاکستان کے وسیم اختر اور حیدر عباس رضوی نے دبئی میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ملاقات کرکے ان کی عیادت کی متحدہ رہنماؤں نے پرویز مشرف کو اپنے تعاون کا بھرپر یقین دلایا ہے۔

About newsbeads

Check Also

سونے کی قیمت میں فی تولہ حیرت انگیز کمی خریداروں کیلئے بڑی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آخر کار عوام کی بھی کسی حد تک سُنی ہی گئی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *