سرکاری ملازمان کو ملنے والا بڑا ریلیف ختم

اسلام آباد(نیو زڈیسک) موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا بیڑہ اُٹھایا تھا جس میں حکومت کافی حد تک کامیاب بھی نظر آرہی ہے مگر اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی بہت متاثر ہو رہی ہے تنخواہ دار طبقہ بھی اس مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کی عمر میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے خصوصی انٹر یو میں کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹریز کو کم سے کم 2 سال ان کے محکموں سے نہ ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی 60 سے 63 سال کرنے پر غور کیا گیا تھا تاہم حکومت نے اب یہ فیصلہ نہیں لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین 60 سال کی عمر میں ہی ریٹائرڈ ہو جائے گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نوجوان کو موقع فراہم کرنے کیلئے کیا گیا ۔ اردو نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم آفس نے ایک خط کے ذریعے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ محکمہ خزانہ کیساتھ ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کے قوانین اور مالی اثرات کے حوالے سے مشاورت کریں۔ تاہم اب فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمیں کی عمر میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ، ملازمین مقرر مدت میں ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ وفاق میں ہر سال 12 سے 14 ہزار نوکریاں دستیاب ہوتی ہے جو نوجوان کو فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ملزمین کی تعداد 15 سے16 لاکھ ہے۔ جس پر 12فیصد نشتیں ابھی بھی خالی ہیں۔

About newsbeads

Check Also

بی بی سی نے دنیا بھر کی 100 بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی،2پاکستانی خواتین بھی شامل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) معروف برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈ کاسٹنگ بی بی سی نے ہر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *